آخر الأخبار
خبر کا کوڈ : 249
10:40

2026/05/10

امام رضا(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی کی عالمی سطح پرعلمی مقبولیت  

امام رضا(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی کی عالمی سطح پرعلمی مقبولیت  
امام رضا(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی کی پروفیسراور دنیا کےدو فیصد ممتاز ترین دانشوروں کی فہرست کی رکن محترمہ ڈاکٹر افسانہ غنی زادہ نے اشپرینگر پبلیکیشنز کے ساتھ اپنی دوسری کتاب شائع کی ہے جس کا عنوان ہے  ڈیجیٹل دور میں مستقل سیکھنے کو تبدیل کرنے والی طاقت ۔

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ عصر حاضر میں علم کی سرحدیں جغرافیائي حدود سے آگے بڑھ رہی ہیں بین الاقوامی سطح پر ایرانی اساتذہ کے نام کی چمک دمک سے ملک کی علمی توانائیوں کا پتہ چلتا ہے ۔
امام رضا(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی کے شعبہ انگلش لینگویج کی پروفیسر ڈاکٹر افسانہ غنی زادہ نے جوکہ 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے دو فیصد ممتازترین دانشوروں کی فہرست میں شامل ہیں حال ہی میں اپنی نئی تصنیف’’مادام العمر سیکھنے میں دوام؛ ذہنوں کو توان مند بنانا‘‘کے عنوان سے بین الاقوامی اشاعتی ادارے اشپرینگر سے شائع کی ہے ،اس کتاب کی اشاعت کی وجہ سے ہم نے اس ممتاز پروفیسر سے ان کی نئی کتاب کے مواد اور موضوع پر بات چیت کی جسے ذیل میں قارئین کےلئے پیش کیا جا رہا ہے۔ 
ڈاکٹر صاحبہ اس کتاب کو لکھنے کا خیال کیسے آیا اور اس کے کیا محرکات ہیں؟
یہ کتاب درحقیقت اکیسویں صدی میں مادام العمرسیکھنے میں تبدیلی کی طاقت کے موضوع پر ایک گہری ریسرچ کا نتیجہ ہے ،ہم ایسے دور میں زندگی کر رہے ہیں جسے لیکوڈ ماڈرنیٹی کہتے ہیں ایک ایسا زمانہ جو ڈجیٹلائز ہو چکا ہے اور جس میں ہر چیز تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اس کا م میں میری بنیادی فکر یہ تھی کہ مسلسل سیکھنا کس طرح انسانی ذہن کو توان مند بنا سکتا ہے اوراسی طرح انفرادی اور معاشرتی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر اثر انداز ہو سکتا ہے ۔ 
اس تصنیف میں سیکھنے کے کن مراحل کا جائزہ لیا گیا ہے ؟
میں نے اس کتاب میں ایک جامع نظر رکھتے ہوئے زندگی کے تین اہم مراحل کو مدّ نظر رکھ کر بچوں،جوانوں اوربوڑھوں کی تعلیم پر توجہ دی ہے اس سلسلے میں سیکھنے کے مختلف مراحل کا باریک بینی سے تجزیہ کیا ہے تاکہ قارئین ذہنی صلاحیتوں سے آشنا ہو سکیں۔ 
آپ نے کتاب میں ’’تعلیمی پیراڈائمز‘‘کا ذکر کیا ہے ان سے کیا مراد ہے؟
اس حصے میں نئے اور انسان دوست نمونوں کے ایک مجموعہ کو متعارف کرایا ہے اور حتی اس میں بنیادی تعلیم،امن پر مبنی تعلیم، قدر پر مبنی تعلیم تنقیدی تعلیم  اور فضا میں تعلیم جیسے موضوعات کی وضاحت کی ہے اور مقصد یہ تھا کہ سیکھنے کو ایک خشک مرحلے سے نکال کر اسے ایک گہرے ، اورزیادہ ڈیموکریٹک اور بامعنی عمل میں تبدیل کیا جائے تاکہ عصر حاضر کے انسان کی حقیقی ضروریات کے مطابق ہوسکے۔ 
آپ کی نظر میں ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تعلیم کی کیا حیثیت ہے؟
یقیناً آج کی سیال  اور تیزرفتار دنیا میں ٹیکنالوجی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،کتاب کا ایک حصہ ڈیجیٹل تعلیم سے مخصوص ہے ،عصر حاضر میں سیکھنا اور تعلیم حاصل کرنا اب کلاس روم کی چار دیواری تک محدود نہیں رہا ،ٹیکنالوجی کے دانشمندانہ استعمال اور اس پر تنقیدی نظر ڈالنے کی صلاحیت  سیکھنے کا ایک لازمی حصہ ہے جس پر کتاب میں تفصیل سے بات کی ہے ۔ 
کون سی خصوصیات اس کتاب کو اس جیسی دیگر تصانیف سے ممتاز کرتی ہیں؟
یہ تصنیف جہاں سیکھنے والوں کے لئے ایک تعلیمی ماخذ ہے وہیں محققین کے لئے علمی مصدر ہے ،اس کی ممتاز خصوصیت یہ ہے کہ ہر باب کے آخر میں سوالات اور مشق دی گئی ہے میرا مقصد یہ تھا کہ کتاب کو پڑھنے والا فقط معلومات تک محدود نہ رہے بلکہ اس پر غور و فکر کرے تاکہ اس کے سیکھنے کو با معنی بنایا جا سکے۔ 
اشپرینگر جیسی معتبر پبلیکیشنز سے کتاب کا شائع کرنا یونیورسٹی کے لئے کیا اہمیت رکھتا ہے ؟
اشپرینگر دنیا کے معتبر ترین علمی ماخذ میں سے ہے اور اس میں کتاب چھپنے سے پہلے سخت جائزہ لیا جاتا ہے اور جب ناشر کی طرف سے کوئی کام منظور ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امام رضا(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی کے علمی نتائج بین الاقوامی سطح کے ہیں جس سے یونیورسٹی کی بین الاقوامی حیثیت میں اضافہ ہوتا ہے اور نتیجتاً یونیورسٹی کے محققین کےافکار و خیالات تک دنیا بھر کے محققین کے لئے قابل رسائی ہو جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ کتاب گیارہ ابواب اور 353 صفحات پر مشتمل ہے اور اپریل 2026 سے مطبوعہ اور الیکٹرانک نسخوں کی صورت میں بھی دستیاب ہوگی۔ 


غلطی کی رپورٹ

تبصرے پوسٹ کریں۔
captcha
  • مدیر کی پسند
  • تازہ ترین خبریں۔
رضوی سیرت میں حکیمانہ مینجمنٹ اور استقامت؛دینی طرز حکمرانی کا مکمل نمونہ مزاحمتی محاذ کا ناقابل شکست ہونے کا دارومدار’’جہاد تبیین‘‘ اور رضوی تعلیمات پر ہے رضوی سیرت؛ انسانی کرامت کی بنیاد پر انسانی حقوق کی نئی تعریف کے لئے ایک عملی نمونہ امام رضا(ع) آج بھی اقوام اور ادیان کے مابین یکجہتی کا مرکز ہیں عالمی کانگریس حضرت رضا(ع)؛امت مسلمہ کے اتحاد کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے طالبات کا ہاسٹل ’’سرای نجمہ خاتون(س)‘‘ علم و روحانیت کے امتزاج کی علامت ہے آستان قدس رضوی کے متولی کی موجودگی میں ملک کے جدید ترین ہاسٹل کا افتتاح عبدالعظیم حسنی (ع) دینی معرفت سے سماجی اتحاد تک آستان قدس رضوی؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی ثقافتی سفارت کاری کو مضبوط بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے عراقی طلبا کی حرم امام رضا(ع) میں حاضری وزارت خارجہ کے شعبہ انٹرنیشنل ریلشنز کے کالج کے طلباء کی حرم امام رضا(ع) میں حاضری ملک نیشنل لائبریری اینڈ میوزیم میں ’’جہان؛یک پردہ روشن تر‘‘ کے عنوان سے نمائش کا افتتاح رضوی یونیورسٹی  اور جامعہ المصطفی مشہد برانچ کے درمیان مشترکہ تعاون کا آغاز نقل و حمل، رہائش اور پارکینگ کی توسیع کے لئےحکومت،پارلیمنٹ اورصوبائی انتظامیہ کے ساتھ ہیں؛صوبہ خراسان رضوی سے منتخب ارکان پارلیمان کے بورڈ کے سربراہ کا بیان ایران اور ہندوستان کے مابین باضابطہ فارسی زبان کی تعلیم کے لئے باہمی تعاون کا آغاز حرم امام رضا(ع) میں نصب جالیوں کی زیارت اور فن تعمیر سے متعلق تفصیلات آستان قدس رضوی کے ریسرچ معاونین کا بین الاقوامی امور کے شعبے میں باہمی تعاون میں اضافے پر زور صفوی دور کے وقف  حمام دروازہ کا تعارف ایران سے متعلق میرے ذہن میں پائے جانے والے منفی تاثرات مکمل  طور پرتبدیل ہو گئے؛سنی انفلوئنسر کا بیان تنزانیا سے امام رضا علیہ السلام کے حرم تک عشق و محبت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ   حرم امام رضا(ع) میں چالیسویں وحدتِ اسلامی کانفرنس کی اختتامی تقریب